
وزیرستان کے موجودہ حالات بدستور کشیدہ اور سیکیورٹی چیلنجز سے دوچار ہیں، جہاں پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے فتنہ الخوارج (ٹی ٹی پی) اور دیگر شرپسند عناصر کے خلاف مسلسل انٹیلیجنس بیسڈ آپریشنز (IBOs) میں مصروف ہیں۔ حالیہ مہینوں کے دوران شمالی اور جنوبی وزیرستان میں دہشت گردوں کے متعدد حملوں اور خودکش دھماکوں کو ناکام بناتے ہوئے درجنوں خوارج کو ہلاک کیا گیا ہے، جبکہ ان جھڑپوں میں سیکیورٹی فورسز کے جوانوں نے بھی شہادتیں پیش کی ہیں۔ پاک افغان سرحد پر کشیدگی اور سرحد پار سے فائرنگ کے واقعات کے بعد حکومت اور عسکری قیادت نے ‘عزمِ استحکام’ وژن کے تحت دہشت گردی کے جڑ سے خاتمے کا عزم کر رکھا ہے اور ان علاقوں میں سیکیورٹی اور پولیس کے نظام کو مزید مضبوط کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ امن و امان بحال کر کے مقامی آبادی کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔ [1, 2, 3, 4, 5, 6, 7, 8]